بلاگ تلاش کریں

غزل


 شاعر: رشید حسرت، کوئٹہ

کچھ بھی حالات رہیں اس کی طرف جائیں گے

دل ہتھیلی پہ لیئے، جان بکف جائیں گے


آج چھٹکارا ملے گا اسے زنداں سے، مدام

گیت ہم گاتے ہوئے دست بدف جائیں گے


بات نمٹائے بِنا ہم تو نہیں جانے کے

آ گئے ہیں تو ابھی لے کے ہدف جائیں گے


ہم ہیں احمد کے غلام اور علی کے تابع

چل پڑیں گے کہ جہاں شاہِ نجف جائیں گے


چاہ سے اس نے ہمیں بزم میں دعوت دی ہے

بھر کے آنکھوں میں عقیدت کے صدف جائیں گے


ضابطے ہم نے سبوتاژ کیے ہیں سارے

اپنی منزل کی طرف  چِیر کے صف جائیں گے


ہم نے اس خاک پہ اک عمر گزاری لوگو

چھوڑ کے آج مگر ماں کا کنف جائیں گے


بیت بازی میں کٹی عمر، مگر کیا پایا

راس آیا نہ ذرا شعر شغف، جائیں گے


کتنی تذلیل ترے سرد رویّے سے ہوئی

 تو نے بخشا ہے رشیدؔ اتنا شرف، جائیں گے

کوئی تبصرے نہیں: