اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان اور چین کے درمیان طویل المدتی دفاعی تعاون کے تحت تیار کی جانے والی پہلی جدید 'ہنگور کلاس' آبدوز کراچی بندرگاہ پہنچ گئی ہے، جسے بحرِ ہند میں سٹریٹجک توازن اور پاک بحریہ کی زیرِ آب جنگی صلاحیتوں میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت 1971 کی جنگ میں انڈین جنگی جہاز 'آئی این ایس کھکری' کو غرق کرنے والی تاریخی 'ہنگور' آبدوز کی یاد تازہ کرتی ہے، تاہم 55 سال بعد اسی نام سے شامل ہونے والا یہ نیا پلیٹ فارم روایتی دفاع کو جدید ترین سٹریٹجک دفاع میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ منصوبہ اپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورہِ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے اسٹرٹیجک معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 8 آبدوزیں تیار کی جا رہی ہیں۔ معاہدے کے مطابق 4 آبدوزیں چین کے ووچانگ شپ بلڈنگ گروپ میں جبکہ بقیہ 4 آبدوزیں کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تحت مقامی طور پر تیار کی جائیں گی۔ ماہرین کے مطابق یہ پراجیکٹ محض خریداری تک محدود نہیں بلکہ اس سے پاکستان کو مقامی سطح پر آبدوز سازی، ڈیزائننگ اور ویپن انٹیگریشن کی خود کفیل مہارت حاصل ہو رہی ہے۔
تکنیکی اعتبار سے ہنگور کلاس آبدوزیں چینی 'ٹائپ 039-بی یوان کلاس' کے جدید ترین ڈیزائن پر مبنی ہیں، جنہیں پاک بحریہ کی آپریشنل ضروریات کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے۔ ان آبدوزوں کی سب سے بڑی خاصیت ان کا 'ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن' (AIP) نظام ہے، جو انہیں عام ڈیزل الیکٹرک آبدوزوں کے برعکس بیٹریاں چارج کرنے کے لیے بار بار سطحِ آب پر آئے بغیر طویل عرصے تک سمندر کی گہرائیوں میں روپوش رہنے کی سٹریٹجک صلاحیت (Stealth) فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آبدوزیں آواز جذب کرنے والی تہوں، جدید صوتی سینسرز، ہیوی ویٹ ٹارپیڈوز اور اینٹی شپ کروز میزائلوں سے لیس ہیں جو بیک وقت سطحِ آب، زیرِ آب اور زمینی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین اور بحری امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان آٹھ آبدوزوں کی شمولیت پاک بحریہ کی 'ایریا ڈینائل' کی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط کرے گی، جس کا بنیادی مقصد خطے میں کسی جارحیت کی صورت میں دشمن کے بحری جہازوں کو اپنی سمندری حدود سے دور رکھنا ہے۔ ماضی میں امریکی ساختہ 'غازی' آبدوز پر لگنے والی پابندیوں کے تلخ تجربات کے تناظر میں، چین جیسے قابلِ اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر کے ساتھ یہ اشتراک لاجسٹکس اور اسپیئر پارٹس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائے گا، جو مستقبل کے سمندری چیلنجز اور بحرِ ہند کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظرنامے میں پاکستان کے بحری دفاع کا ایک ناگزیر متبادل ثابت ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں: