بلاگ تلاش کریں

بجٹ

 




اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)
  وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کردہ 18 ہزار 877 ارب روپے کا سالانہ بجٹ ملکی معیشت اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سخت ترین چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں اور نیوز ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے زیرِ اثر تیار کیے گئے اس بجٹ میں ریکارڈ 12 ہزار 970 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زائد ہے۔ تاہم، اس خطیر ہدف کا بڑا بوجھ رئیل اسٹیٹ، زراعت اور بااثر کاروباری شعبوں کے بجائے پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود تنخواہ دار طبقے پر ڈالنے پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

نیوز رپورٹس کے مطابق، بجٹ دستاویزات میں ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا خلا واضح طور پر نظر آتا ہے، جہاں بجٹ کا نصف سے زائد حصہ یعنی 9 ہزار 775 ارب روپے صرف ماضی کے قرضوں کی سود ادائیگی (ڈیبٹ سروسنگ) کی نذر ہو جائے گا۔ دوسری جانب، دفاعی اخراجات کے لیے 2 ہزار 128 ارب روپے اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے 1 ہزار 500 ارب روپے مختص تو کیے گئے ہیں، لیکن ترقیاتی بجٹ کا انحصار بھی بیرونی و اندرونی قرضوں پر ہونے کے باعث اسے ایک کاغذی ہدف قرار دیا جا رہا ہے۔ پٹرولیم لیوی کی حد کو بڑھا کر 80 روپے فی لیٹر تک کرنے کی گنجائش اور سیلز ٹیکس کا دائرہ وسیع ہونے سے مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاشی پالیسی پر سب سے بڑی تنقید یہ کی جا رہی ہے کہ یہ بجٹ ملکی پیداوار، صنعت اور آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دینے کے بجائے محض خسارہ پورا کرنے کی ایک عارضی کوشش ہے۔ معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ جب تک اشرافیہ کو دی جانے والی اربوں روپے کی سبسڈیز اور سرکاری سطح پر شاہانہ اخراجات کو مستقل طور پر ختم نہیں کیا جاتا اور ٹیکس چوری کرنے والے بڑے شعبوں کو قانون کے دائرے میں نہیں لایا جاتا، تب تک ایسے بجٹ عام آدمی کے معاشی استحصال اور ملکی قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافے کا سبب بنتے رہیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں: